Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 2202 (سنن أبي داود)

[2202]صحیح

صحیح بخاری (2757) صحیح مسلم (2769)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَا،أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ... أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ كَعْبٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيہِ حِينَ عَمِيَ،قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فَسَاقَ قِصَّتَہُ فِي تَبُوكَ. قَالَ: حَتَّی إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنَ الْخَمْسِينَ،إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللہِ ﷺ يَأْتِي،فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ،قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُہَا؟ أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لَا, بَلِ اعْتَزِلْہَا،فَلَا تَقْرَبَنَّہَا،فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَہْلِكِ،فَكُونِي عِنْدَہُمْ،حَتَّی يَقْضِيَ اللہُ سُبْحَانَہُ فِي ہَذَا الْأَمْرِ.

جناب عبداللہ بن کعب اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے قائد تھے جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے۔کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا اور تبوک والا واقعہ بیان کیا۔بیان کیا کہ جب پچاس میں سے چالیس دن گزر گئے تو اچانک رسول اللہ ﷺ کا پیغام بر آیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جاؤ۔میں نے پوچھا: اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ کہا: نہیں،بلکہ اس سے علیحدہ رہو،اس کے قریب مت ہونا۔چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور انہی کے پاس رہو،تاآنکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس معاملے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔