Sunan Abi Dawood Hadith 2204 (سنن أبي داود)
[2204] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1178) نسائی (3439)
قتادۃ عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ،قَالَ: قُلْتُ: لِأَيُّوبَ: ہَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي: أَمْرُكِ بِيَدِكِ؟ قَالَ: لَا،إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاہُ قَتَادَةُ،عَنْ كَثِيرٍ-مَوْلَی ابْنِ سَمُرَةَ-،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِہِ... قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ. فَسَأَلْتُہُ؟ فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِہَذَا قَطُّ،فَذَكَرْتُہُ لِقَتَادَةَ،فَقَالَ: بَلَی،وَلَكِنَّہُ نَسِيَ.
حماد بن زید نے بیان کیا کہ میں نے ایوب سے پوچھا: آپ کو کسی کا علم ہے جو ((أمرک بیدک)) ’’تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے‘‘ کی تفصیل میں حسن (بصری) کی طرح کہتا ہو؟ (ان کی بیان اگلی روایت میں آ رہا ہے۔) ایوب نے کہا: نہیں مگر وہی جو ہم کو قتادہ نے بہ سند کثیر مولی ابن سمرہ سے،ابوسلمہ سے،انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے،انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی مانند بیان کیا۔ایوب نے کہا: پھر کثیر مولی ابن سمرہ ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے (اس روایت کے متعلق) پوچھا۔تو انہوں نے کہا: ’’میں نے یہ کبھی بیان نہیں کیا۔‘‘ پھر میں نے ان کی یہ بات قتادہ سے کہی تو انہوں نے کہا کہ بیان تو کیا ہے مگر بھول گئے ہیں۔