Sunan Abi Dawood Hadith 2212 (سنن أبي داود)

[2212]صحیح

رواہ البخاري (5084، 2217) ومسلم (2371)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ،حَدَّثَنَا ہِشَامٌ،عَنْ مُحَمَّدٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّ إِبْرَاہِيمَ ﷺ لَمْ يَكْذِبْ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثًا, ثِنْتَانِ فِي ذَاتِ اللہِ تَعَالَی: قَوْلُہُ: إِنِّي سَقِيمٌ[الأنبياء: 63]،وَقَوْلُہُ: بَلْ فَعَلَہُ كَبِيرُہُمْ ہَذَا[الصافات: 89]،وَبَيْنَمَا ہُوَ يَسِيرُ فِي أَرْضِ جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ،إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَأُتِيَ الْجَبَّارُ فَقِيلَ لَہُ: إِنَّہُ نَزَلَ ہَاہُنَا رَجُلٌ مَعَہُ امْرَأَةٌ ہِيَ أَحْسَنُ النَّاسِ،قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْہِ،فَسَأَلَہُ عَنْہَا؟ فَقَالَ: إِنَّہَا أُخْتِي،فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْہَا, قَالَ: إِنَّ ہَذَا سَأَلَنِي عَنْكِ،فَأَنْبَأْتُہُ أَنَّكِ أُخْتِي،وَإِنَّہُ لَيْسَ الْيَوْمَ مُسْلِمٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ،وَإِنَّكِ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللہِ،فَلَا تُكَذِّبِينِي عِنْدَہُ..., وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَی ہَذَا الْخَبَرَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ،عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر تین مواقع پر۔دو بار اللہ عزوجل کے بارے میں۔جبکہ آپ نے (قوم سے) کہا: تھا ((إنی سقیم)) ’’میں بیمار ہوں،یا میری طبیعت ناساز ہے۔‘‘ دوسری بار آپ نے کہا: تھا ((بل فعلہ کبیرہم ہذا)) ’’یہ تو ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔‘‘ اور تیسری بار جب کہ وہ ایک جابر بادشاہ کے علاقے میں سے جا رہے تھے کہ ایک جگہ پڑاؤ کیا تو اس ظالم بادشاہ کو خبر دی گئی اور کہا گیا کہ یہاں ایک شخص اترا ہے اور اس کے ساتھ ایک عورت ہے انتہائی حسین و جمیل! تو اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلا بھیجا اور خاتون کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ’’یہ میری بہن ہے۔اور جب وہ اپنی اہلیہ کے پاس لوٹے تو اسے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے متعلق پوچھا ہے اور میں نے اس کو بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آج تیرے اور میرے علاوہ کوئی مسلمان نہیں ہے اور اللہ کی کتاب میں تو میری بہن ہے تو مجھے اس کے ہاں مت جھٹلانا۔‘‘ اور حدیث بیان کی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو شعیب بن ابی حمزہ نے ابو الزناد سے،انہوں نے اعرج سے،انہوں نے سیدنا ابوہریرہ سے،انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔