Sunan Abi Dawood Hadith 2214 (سنن أبي داود)
[2214] إسنادہ ضعیف
معمر بن عبد اللہ: مجہول،انظر التحریر (2810)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ،حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْظَلَةَ،عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَامٍ،عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ،قَالَتْ: ظَاہَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ،فَجِئْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَشْكُو إِلَيْہِ،وَرَسُولُ اللہِ ﷺ يُجَادِلُنِي فِيہِ،وَيَقُولُ: اتَّقِي اللہَ, فَإِنَّہُ ابْنُ عَمِّكِ،فَمَا بَرِحْتُ حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ: قَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِہَا[أول سورة المجادلة], إِلَی الْفَرْضِ،فَقَالَ: يُعْتِقُ رَقَبَةً،قَالَتْ: لَا يَجِدُ،قَالَ: فَيَصُومُ شَہْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّہُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِہِ مِنْ صِيَامٍ،قَالَ: فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا،قَالَتْ: مَا عِنْدَہُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِہِ،قَالَتْ: فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ. مِنْ تَمْرٍ،قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! فَإِنِّي أُعِينُہُ بِعَرَقٍ آخَرَ،قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتِ،اذْہَبِي فَأَطْعِمِي بِہَا عَنْہُ سِتِّينَ مِسْكِينًا،وَارْجِعِي إِلَی ابْنِ عَمِّكِ. قَالَ: وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا. قَالَ أَبو دَاود: فِي ہَذَا إِنَّہَا كَفَّرَتْ عَنْہُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَہُ. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
سیدہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔رسول اللہ ﷺ مجھ سے اس مسئلے میں بحث فرمانے لگے۔آپ کہتے تھے ’’اللہ سے ڈرو،وہ تمہارا چچا زاد ہے‘‘ میں وہاں سے نہ ہٹی تھی کہ قرآن نازل ہو گیا ((قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا)) بیان کفارہ تک۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’وہ گردن آزاد کرے۔‘‘ اس نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔آپ نے فرمایا ’’وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھا ہے،روزے کہاں رکھ سکتا ہے؟ فرمایا ’’تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔‘‘ اس نے کہا: اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ صدقہ کرے۔بیان کرتی ہیں کہ اسی وقت آپ کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آ گیا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اور ٹوکرے (کھجور) سے اس کی مدد کر سکتی ہوں۔آپ نے فرمایا ’’بہت بہتر ہے۔جاؤ اور اس کی طرف سے یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور اپنے چچا زاد کی طرف لوٹ جاؤ۔‘‘ (یحییٰ بن آدم نے) کہا کہ ((العرق)) (ٹوکرے) میں ساٹھ صاع کھجور آتی ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت میں کہا کہ اس (خاتون) نے اپنے شوہر کی طرف سے اس کے مشورے کے بغیر ہی کفارہ ادا کر دیا تھا۔اور کہا کہ یہ (اوس بن صامت) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔