Sunan Abi Dawood Hadith 2227 (سنن أبي داود)

[2227]إسنادہ صحیح

أخرجہ النسائي (3492 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ،عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَہْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ،أَنَّہَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ،وَأَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ،فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَہْلٍ عِنْدَ بَابِہِ فِي الْغَلَسِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ ہَذِہِ؟،فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَہْلٍ،قَالَ: مَا شَأْنُكِ؟،قَالَتْ: لَا أَنَا،وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ-لِزَوْجِہَا-،فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ،قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ہَذِہِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَہْلٍ،-وَذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللہُ أَنْ تَذْكُرَ-،وَقَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللہِ! كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ: خُذْ مِنْہَا. فَأَخَذَ مِنْہَا،وَجَلَسَتْ ہِيَ فِي أَہْلِہَا.

عمرہ بنت عبدالرحمٰن،حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بیان کرتی ہیں کہ یہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی۔رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز کے لیے جانے لگے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے کے پاس کھڑے پایا۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا: میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔آپ نے پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘ کہنے لگی میں نہیں اور ثابت بن قیس نہیں! یعنی اپنے شوہر کے متعلق کہا۔(مطلب یہ تھا کہ ہم دونوں کا اکٹھا رہنا ممکن نہیں) پھر جب سیدنا ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: ’’حبیبہ بنت سہل آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ منظور تھا اس نے مجھ سے بیان کیا۔‘‘ حبیبہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیس سے فرمایا ’’اس سے وصول کر لو۔‘‘ چنانچہ انہوں نے مال لے لیا اور پھر وہ اپنے گھر والوں کے ہاں بیٹھ رہی۔