Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 223 (سنن أبي داود)

[223]صحیح

زہری صرح بالسماع عند البغوی فی شرح السنۃ (2/ 34)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ،حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ،عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّہْرِيِّ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ...: زَادَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَہُوَ جُنُبٌ،غَسَلَ يَدَيْہِ.. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ ابْنُ وَہْبٍ،عَنْ يُونُسَ فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا وَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّہْرِيِّ, كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ،عَنْ عُرْوَةَ أَوْ أَبِي سَلَمَةَ وَرَوَاہُ الْأَوْزَاعِيُّ،عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّہْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.

محمد بن صباح بزاز حدیث ((حدثنا ابن المبارک،‏‏‏‏ عن یونس،‏‏‏‏ عن الزہری)) /حدیث کی سند سے اس کے ہم معنی مروی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ: اور جب آپ حالت جنابت میں ہوتے ہوئے کچھ کھانا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو لیتے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے بواسطہ یونس اس کو روایت کیا تو کھانے کے قصے کو ان کا قول بنا دیا یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے۔جبکہ صالح بن ابی الاخضر بواسطہ زہری وہی بیان کرتا ہے جو ابن مبارک نے کہا۔(یعنی نیند اور کھانے دونوں کا ذکر کیا) مگر اس سند میں شک ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت لینے والا عروہ ہے یا ابی سلمہ۔اور اوزاعی نے بواسطہ حدیث ((یونس عن الزہری عن النبی ﷺ)) /حدیث اسی طرح روایت یا ہے جیسے کہ ابن مبارک نے۔