Sunan Abi Dawood Hadith 2245 (سنن أبي داود)
[2245]صحیح
صحیح بخاری (5259) صحیح مسلم (1492)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ،أَخْبَرَہُ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ،فَقَالَ لَہُ: يَا عَاصِمُ! أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا أَيَقْتُلُہُ فَتَقْتُلُونَہُ؟،أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي-يَا عَاصِمُ-رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللہِ ﷺ؟ فَكَرِہَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمَسَائِلَ وَعَابَہَا،حَتَّی كَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَہْلِہِ جَاءَہُ عُوَيْمِرٌ،فَقَالَ لَہُ: يَا عَاصِمُ! مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللہِ ﷺ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ،قَدْ كَرِہَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُہُ عَنْہَا،فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللہِ لَا أَنْتَہِي حَتَّی أَسْأَلَہُ عَنْہَا! فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ،وَہُوَ وَسْطَ النَّاسِ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا،أَيَقْتُلُہُ فَتَقْتُلُونَہُ،أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ،فَاذْہَبْ فَأْتِ بِہَا. قَالَ سَہْلٌ: فَتَلَاعَنَا،وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا فَرَغَا, قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْہَا يَا رَسُولَ اللہِ إِنْ أَمْسَكْتُہَا،فَطَلَّقَہَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا،قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَہُ النَّبِيُّ ﷺ. قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی رضی اللہ عنہ،عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! بتلاؤ! اگر کوئی شخص کسی اجنبی کو اپنی بیوی کے ساتھ پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ پھر تو تم اسے بھی قتل کر دو گے یا کیا کرے؟ عاصم! میرے متعلق اس مسئلے میں رسول اللہ ﷺ سے معلوم کرو۔چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا،حتیٰ کہ عاصم کو،جو اس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا بہت ہی گراں گزرا۔عاصم جب گھر لوٹا تو عویمر اس کے پاس آیا اور پوچھا: اے عاصم! رسول اللہ ﷺ نے تمہیں کیا کہا ہے؟ عاصم نے کہا: تم میرے لیے کوئی خیر کا باعث نہیں بنے ہو،رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کو جو میں نے آپ ﷺ سے پوچھا بہت ناپسند کیا ہے۔عویمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس سے خاموش نہیں رہ سکتا۔میں خود آپ ﷺ سے دریافت کروں گا۔چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ،رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے،تب تو آپ ﷺ اسے بھی قتل کر ڈالیں گے یا کیسے کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل فرما دیا ہے۔پس جا اور اسے لے آ۔‘‘ سہل نے بیان کیا: چنانچہ ان دونوں نے لعان کیا تو میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔جب وہ دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب ہو گا کہ میں نے) اس کی بابت جھوٹ بولا ہے۔(میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا ہے)۔پھر نبی کریم ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ابن شہاب نے کہا: چنانچہ لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہو گیا۔(کہ لعان کے ساتھ ہی جدائی ہو جائے گی)۔