Sunan Abi Dawood Hadith 2244 (سنن أبي داود)

[2244]حسن

جعفر بن عبد اللہ صرح بالسماع من جدہ عند البیھقي (8/3) والحاکم (2/206) وھي روایۃ غریبۃ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ،أَخْبَرَنَا عِيسَی،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ،أَخْبَرَنِي أَبِي،عَنْ جَدِّي رَافِعِ ابْنِ سِنَانٍ،أَنَّہُ أَسْلَمَ،وَأَبَتِ امْرَأَتُہُ أَنْ تُسْلِمَ،فَأَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَتِ: ابْنَتِي،وَہِيَ فَطِيمٌ،أَوْ شَبَہُہُ،-وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي قَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: اقْعُدْ نَاحِيَةً،وَقَالَ لَہَا: اقْعُدِي نَاحِيَةً،قَالَ: وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَہُمَا،ثُمَّ قَالَ: ادْعُوَاہَا! فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَی أُمِّہَا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ اللہُمَّ اہْدِہَا. فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَی أَبِيہَا،فَأَخَذَہَا.

سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا،(جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی) پس وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے۔رافع نے کہا: بیٹی میری ہے۔نبی کریم ﷺ نے رافع سے کہا: ’’ایک طرف بیٹھ جاؤ‘‘ اور عورت سے کہا: ’’دوسری طرف بیٹھ جاؤ‘‘ اور بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا۔پھر ماں باپ سے کہا: ’’تم دونوں اسے بلاؤ۔‘‘ (انہوں نے بلایا) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔پس نبی کریم ﷺ نے کہا: ’’اے اﷲ! اس بچی کو ہدایت دے۔‘‘ چنانچہ بچی باپ کی طرف مائل ہو گئی تو اسی نے اس کو لے لیا۔