Sunan Abi Dawood Hadith 2257 (سنن أبي داود)
[2257]صحیح
صحیح بخاری (5312) صحیح مسلم (1493)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ،يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَی اللہِ،أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ،لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْہَا،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَالِي؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ،إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْہَا, فَہُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا،وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْہَا, فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں کو کہا ’’تمہارا حساب اﷲ کے پاس ہے۔تم دونوں میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔اور (شوہر سے کہا کہ) تجھے اس پر کوئی حق حاصل نہیں رہا۔‘‘ اس نے کہا: اے اﷲ کے رسول! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیرے لیے کوئی مال نہیں۔اگر تو سچا ہے تو وہ اس کا بدل ہے جو تو نے اس کی عصمت کو حلال کیا۔اور اگر اس پر جھوٹ بولا ہے تو وہ تیرے لیے اور بھی بعید تر ہے۔‘‘ (ایک طرف تہمت لگائے اور اس پر مزید یہ کہ مال بھی مانگے)۔