Sunan Abi Dawood Hadith 2258 (سنن أبي داود)

[2258]صحیح

صحیح بخاری (5311) صحیح مسلم (1493)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ،حَدَّثَنَا أَيُّوبُ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَہُ؟ قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ،وَقَالَ: اللہُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ،فَہَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ يُرَدِّدُہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-،فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَہُمَا.

جناب سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنی عجلان کے ایک جوڑے میں تفریق کرا دی تھی (عویمر اور اس کی بیوی میں) اور فرمایا تھا ’’اﷲ ہی خوب جانتا ہے،تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے،تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کر رہا ہے؟‘‘ آپ نے اپنی یہ بات تین بار دہرائی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔چنانچہ آپ نے ان میں تفریق کرا دی۔