Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 226 (سنن أبي داود)

[226]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (1263)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ.ح. وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،قَالَا: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ،عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ،قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ, كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ،وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِہِ،قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً! قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ, كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِہِ،قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً! قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللہِ ﷺ, كَانَ يَجْہَرُ بِالْقُرْآنِ أَمْ يَخْفُتُ بِہِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَہَرَ بِہِ،وَرُبَّمَا خَفَتَ،قُلْتُ: اللہُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً!

جناب غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ ارشاد فرمائیے! کیا رسول اللہ ﷺ غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کر لیتے تھے یا آخر رات میں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات ابتدائے رات میں کرتے تھے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں-میں نے کہا: اللہ اکبر! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت دی۔میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے یا آخر میں؟ انہوں نے کہا کبھی رات کی ابتداء میں اور کبھی آخر میں پڑھتے تھے۔میں نے کہا: اللہ اکبر! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی-میں نے کہا: یہ فرمائیے: کیا رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اونچی آواز سے پڑھتے تھے یا خاموشی سے؟ فرمایا کہ کبھی اونچی آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی دھیمی آواز اور خاموشی سے۔میں نے کہا: اللہ اکبر! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی۔