Sunan Abi Dawood Hadith 2264 (سنن أبي داود)
[2264] إسنادہ ضعیف
’’بعض أصحابنا‘‘ لم أعرفہ وقال المنذري:’’في إسنادہ رجل مجہول‘‘ (عون المعبود 247/2)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ،عَنْ سَلْمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّيَّادِ،حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ, مَنْ سَاعَی فِي الْجَاہِلِيَّةِ, فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِہِ،وَمَنِ ادَّعَی وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ, فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسلام میں زناکاری کا کوئی تصور اور مقام نہیں،جس کسی نے ایام جاہلیت میں یہ عمل بد کیا ہو تو بچہ اس کے عصبہ ہی سے ملحق ہو گا۔اور جو کوئی نکاح صحیح کے بغیر کسی بچے کا دعوہ کرے (زنا کی وجہ سے) تو نہ وہ باپ اس بچے کا وارث ہو گا اور نہ وہ بیٹا اس باپ کا۔‘‘