Sunan Abi Dawood Hadith 2267 (سنن أبي داود)

[2267]صحیح

صحیح بخاری (6771) صحیح مسلم (1459)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَی وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ مُسَدَّدٌ وَابْنُ السَّرْحِ يَوْمًا مَسْرُورًا،-وَقَالَ عُثْمَانُ تُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْہِہِ-،فَقَالَ: أَيْ عَائِشَةُ! أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَی زَيْدًا وَأُسَامَةَ،قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَہُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُہُمَا،فَقَالَ: إِنَّ ہَذِہِ الْأَقْدَامَ بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ؟ . قَالَ أَبو دَاود: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ،وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہرسول اللہ ﷺ ایک دن بڑے خوش خوش میرے ہاں تشریف لائے۔عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ کے چہرہ کے خطوط چمک رہے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! کیا کچھ معلوم ہوا کہ مجزز مدلجی نے زید اور اسامہ کو دیکھا جبکہ وہ دونوں ایک چادر سے اپنے سر ڈھانپے (لیٹے) ہوئے تھے اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو مجزز نے کہا: بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے سے ہیں۔(باپ بیٹے کے ہیں) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا اسامہ سیاہ رنگ کے تھے اور سیدنا زید سفید رنگ کے۔