Sunan Abi Dawood Hadith 2268 (سنن أبي داود)

[2268]صحیح

صحیح بخاری (6771) صحیح مسلم (1459)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ،قَالَ: قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا،تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْہِہِ. قَالَ أَبو دَاود: وَأَسَارِيرُ وَجْہِہِ لَمْ يَحْفَظْہُ ابْنُ عُيَيْنَةَ. قَالَ أَبو دَاود: أَسَارِيرُ وَجْہِہِ ہُوَ تَدْلِيسٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْہُ مِنَ الزُّہْرِيِّ إِنَّمَا سَمِعَ الْأَسَارِيرَ مِنْ غَيْرِہِ قَالَ وَالْأَسَارِيرُ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِہِ. قَالَ أَبو دَاود: وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ،يَقُولُ: كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ شَدِيدَ السَّوَادِ مِثْلَ الْقَارِ،وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ مِثْلَ الْقُطْنِ.

ابن شہاب نے اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ﷺ بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے۔آپ ﷺ کے چہرے کی دھاریاں چمک رہی تھیں۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسامہ سیاہ اور زید رضی اللہ عنہ سفید رنگ کے تھے۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((أساریر وجہہ)) کا لفظ ابن عیینہ نے یاد نہیں رکھا۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ((أساریر وجہہ)) کے الفاظ ابن عیینہ کی تدلیس ہے،جو کہ انہوں نے زہری سے نہیں سنے بلکہ کسی اور سے سنے ہیں۔یہ الفاظ لیث وغیرہ کی روایت میں آئے ہیں۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: احمد بن صالح کہا کرتے تھے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ انتہائی کالے رنگ کے تھے جیسے کہ تارکول ہو اور زید رضی اللہ عنہ سفید رنگ کے تھے جیسے کہ روئی۔