Sunan Abi Dawood Hadith 2270 (سنن أبي داود)
[2270]حسن
انظر الحدیث السابق (2269)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ،عَنْ صَالِحٍ الْہَمْدَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِي اللہُ عَنْہُ بِثَلَاثَةٍ-وَہُوَ بِالْيَمَنِ-وَقَعُوا عَلَی امْرَأَةٍ فِي طُہْرٍ وَاحِدٍ،فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِہَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا،حَتَّی سَأَلَہُمْ جَمِيعًا،فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ قَالَا: لَا،فَأَقْرَعَ بَيْنَہُمْ،فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْہِ الْقُرْعَةُ،وَجَعَلَ عَلَيْہِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ،قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ،فَضَحِكَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں کا معاملہ لایا گیا جبکہ وہ یمن میں عامل تھے،وہ تینوں ایک عورت پر ایک طہر میں واقع ہوئے تھے۔انہوں نے دو سے پوچھا کیا تم اس تیسرے کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں! حتیٰ کہ انہوں نے سب سے پوچھا۔جب بھی دو سے پوچھتے،وہ نفی میں جواب دیتے تو انہوں نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اس کو دے دیا جس کے نام کا قرعہ نکلا اور اس پر دو تہائی دیت بھی لازم کر دی۔چنانچہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر کیا گیا تو آپ اس پر ہنسے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔