Sunan Abi Dawood Hadith 2276 (سنن أبي داود)

[2276]حسن

الولید بن مسلم صرح بالسماع وللحدیث طرق أخریٰ عن عمرو بن شعیب عند أحمد (2/182، 203) وغیرہ مشکوۃ المصابیح (3378)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،عَنْ أَبِي عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ،حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو،أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ ابْنِي ہَذَا كَانَ بَطْنِي لَہُ وِعَاءً،وَثَدْيِي لَہُ سِقَاءً،وَحِجْرِي لَہُ حِوَاءً،وَإِنَّ أَبَاہُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَہُ مِنِّي،فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ أَنْتِ أَحَقُّ بِہِ مَا لَمْ تَنْكِحِي.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ بیٹا،میرا پیٹ اس کے لیے برتن! میرا سینہ اس کے لیے مشکیزہ اور میرا دامن اس کے لیے پناہ گاہ رہا ہے۔اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور چاہتا ہے کہ اس کو مجھ سے چھین لے۔رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’تو اس کی زیادہ حقدار ہے جب تک کہ نکاح نہ کرے۔‘‘