Sunan Abi Dawood Hadith 2275 (سنن أبي داود)
[2275] إسنادہ ضعیف
رباح الکوفي: مجہول (تقریب: 1877) وذکرہ ابن حبان فی الثقات (238/4) وقال: ’’لا أدري من ھو ولا ابن من ھو‘‘ ؟ !
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا مَہْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَی،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِي اللہُ عَنْہُ،عَنْ رَبَاحٍ،قَالَ: زَوَّجَنِي أَہْلِي أَمَةً لَہُمْ رُومِيَّةً،فَوَقَعْتُ عَلَيْہَا،فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي،فَسَمَّيْتُہُ عَبْدَ اللہِ،ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْہَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي،فَسَمَّيْتُہُ عُبَيْدَ اللہِ،ثُمَّ طَبِنَ لَہَا غُلَامٌ لِأَہْلِي رُومِيٌّ،يُقَالُ لَہُ: يُوحَنَّہْ،فَرَاطَنَہَا بِلِسَانِہِ،فَوَلَدَتْ غُلَامًا،كَأَنَّہُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ،فَقُلْتُ لَہَا: مَا ہَذَا؟ فَقَالَتْ: ہَذَا لِيُوحَنَّہْ،فَرَفَعْنَا إِلَی عُثْمَانَ،أَحْسَبُہُ قَالَ مَہْدِيٌّ قَالَ: فَسَأَلَہُمَا،فَاعْتَرَفَا،فَقَالَ لَہُمَا: أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللہِ ﷺ؟ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَضَی أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ،-وَأَحْسَبُہُ قَالَ فَجَلَدَہَا وَجَلَدَہُ،وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
رباح کا بیان ہے کہ میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میری شادی کر دی۔میں اس سے ہمبستر ہوا تو اس نے بچہ جنا،سیاہ رنگ کا،میری طرح۔میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔میں پھر اس کے ساتھ ہمبستر ہوا تو اس نے کالے رنگ کا بچہ جنم دیا،جیسے کہ میں ہوں۔میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھا۔پھر میرے گھر والوں کے ایک غلام یوحنہ نامی نے اس کے ساتھ خرابی کی،اس کے ساتھ اپنی رومی زبان میں باتیں کیں۔چنانچہ اس نے بچہ جنا جیسے کہ کوئی سام ابرص (گرگٹ) ہو میں نے لونڈی سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ یوحنہ سے ہے۔ہم نے اس کا مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے ان دونوں سے پوچھا تو انہوں نے اعتراف کر لیا۔انہوں نے کہا: کیا تم راضی ہو کہ میں تم میں رسول اللہ ﷺ والا فیصلہ کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہے۔راوی نے کہا: میرا خیال ہے پھر آپ نے ان دونوں کو درے لگائے اور وہ دونوں مملوک اور غلام تھے۔