Sunan Abi Dawood Hadith 2278 (سنن أبي داود)

[2278]حسن

ولہ طریق آخر عند البیھقي (8/6) والحاکم (3/211 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْہَادِ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللہُ عَنْہُ،قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَی مَكَّةَ،فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ،فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا آخُذُہَا،أَنَا أَحَقُّ بِہَا, ابْنَةُ عَمِّي،وَعِنْدِي خَالَتُہَا،وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ،فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَقُّ بِہَا, ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَہِيَ أَحَقُّ بِہَا،فَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَقُّ بِہَا, أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْہَا وَسَافَرْتُ وَقَدِمْتُ بِہَا،فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ... فَذَكَرَ حَدِيثًا،قَال:َ وَأَمَّا الْجَارِيَةُ, فَأَقْضِي بِہَا لِجَعْفَرٍ،تَكُونُ مَعَ خَالَتِہَا،وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُم ٌّ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا زید بن حارثہ مکہ آئے اور حمزہ کی بیٹی کو ساتھ لے آئے۔تو جعفر نے کہا: میں اسے (اپنی تولیت میں) لیتا ہوں،میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے،اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔اور علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میرے گھر میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہے اور وہ اس کی زیادہ حقدار ہے۔اور زید نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔میں ہی اس کے پاس گیا،سفر کیا اور اس کو لے کر آیا ہوں۔پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور بات کی اور فرمایا ’’لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں کہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔‘‘