Sunan Abi Dawood Hadith 2280 (سنن أبي داود)

[2280] إسنادہ ضعیف

أبو إسحاق مدلس وعنعن

قال تنویر الحق الترمذی: وحدیث البخاری (2699) یغني عنہ ولفظہ: ’’‌الخالة بمنزلة الأم‘‘

انوار الصحیفہ ص 86

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَی أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَہُمْ،عَنْ إِسْرَائِيلَ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ ہَانِئٍ وَہُبَيْرَةَ،عَنْ عَلِيٍّ،قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمُّ! يَا عَمُّ! فَتَنَاوَلَہَا عَلِيٌّ،فَأَخَذَ بِيَدِہَا،وَقَالَ: دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ فَحَمَلَتْہَا... فَقَصَّ الْخَبَرَ. قَالَ: وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي،وَخَالَتُہَا تَحْتِي،فَقَضَی بِہَا النَّبِيُّ ﷺ لِخَالَتِہَا،وَقَالَ: الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ کی بیٹی ہمارے پیچھے آ گئی،وہ چچا چچا پکار رہی تھی۔پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو لیا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اپنی چچا زاد کو لے لو۔چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کو اٹھا لیا۔اور خبر بیان کی۔سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ خالہ کے حق میں کر دیا اور فرمایا ’’خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے۔‘‘