Sunan Abi Dawood Hadith 2282 (سنن أبي داود)
[2282]حسن
أخرجہ النسائي (3584 وسندہ حسن) وانظر الحدیث السابق (2195)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ[البقرة: 228]،وَقَالَ: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْہُرٍ[الطلاق: 4]،فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ،وَقَالَ: ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْہِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَہَا[الأحزاب: 49].
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (اللہ کا جو فرمان ہے) ’’طلاق والی عورتیں تین حیض انتظار کریں۔‘‘ (تو اس سے وہ عورتیں نکال دی گئیں جو حیض سے مایوس ہو جائیں) اور ان کے لیے کہا کہ ’’تمہاری جو عورتیں حیض سے مایوس ہوں،اگر تمہیں کوئی شبہ ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے۔‘‘ پھر ان میں سے مزید یہ استثنا فرمایا ’’اگر تم انہیں مساس سے قبل ہی طلاق دے دو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔‘‘ (الاحزاب 49)