Sunan Abi Dawood Hadith 229 (سنن أبي داود)
[229]إسنادہ حسن
عبد اللہ بن سلمۃ حسن الحدیث وعمرو بن مرۃ سمع منہ قبل اختلاطہ مشکوۃ المصابیح (460)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَمَةَ،قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ،أَنَا وَرَجُلَانِ-رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ،أَحْسَبُ-،فَبَعَثَہُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ وَجْہًا،وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا،ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَخْرَجَ،ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِمَاءٍ،فَأَخَذَ مِنْہُ حَفْنَةً،فَتَمَسَّحَ بِہَا،ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ،فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ،فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ،وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ،وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُہُ-أَوْ قَالَ: يَحْجِزُہُ-عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ, لَيْسَ الْجَنَابَةَ.
جناب عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھ دو آدمی اور تھے،ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ایک آدمی ہماری برادری کا تھا اور دوسرا میرا خیال ہے،بنو اسد سے تھا۔ان دونوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک جانب روانہ کیا اور کہا کہ تم دونوں توانا اور طاقتور ہو،لہٰذا اپنے دین (کا فرض ادا کرنے) میں خوب ہمت دکھانا۔پھر کھڑے ہوئے اور بیت الخلاء میں چلے گئے،پھر نکلے اور پانی منگوایا،اس سے ایک چلو لیا اور اس سے (اپنا ہاتھ منہ) دھویا اور قرآن پڑھنے لگ گئے۔حاضرین نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ بیت الخلاء سے نکلتے اور ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور آپ کے لیے کوئی چیز قرآن پڑھنے سے مانع نہ ہوتی تھی الا یہ کہ جنابت سے ہوں۔