Sunan Abi Dawood Hadith 2301 (سنن أبي داود)

[2301]صحیح

صحیح بخاری (5344، 4531)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ،حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ،حَدَّثَنَا شِبْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ،قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،نَسَخَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ عِدَّتَہَا عِنْدَ أَہْلِہَا،فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ،وَہُوَ قَوْلُ اللہِ تَعَالَی: غَيْرَ إِخْرَاجٍ[البقرة: 240]. قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَہْلِہِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِہَا،وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ, لِقَوْلِ اللہِ تَعَالَی فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ[البقرة: 240]،قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَی،تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ .

جناب عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ’’آیت کریمہ ((غیر إخراج)) نے عورت کے لیے شوہر کے اہل میں عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے۔سو جہاں چاہے عدت گزارے۔‘‘ عطاء نے (اس قول کی وضاحت میں) کہا: چاہے تو شوہر کے اہل میں عدت گزارے جیسے کہ اس کے لیے وصیت ہے اور چاہے تو وہاں سے رخصت ہو جائے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ((فإن خرجن فلا جناح علیکم فی ما فعلن)) عطاء کہتے ہیں کہ پھر آیت میراث نازل ہوئی،پس وہ سکنی منسوخ ہو گیا تو جہاں چاہے عدت گزارے۔