Sunan Abi Dawood Hadith 2329 (سنن أبي داود)

[2329]إسنادہ حسن

الولید بن مسلم صرح بالسماع المسلسل عند الطبراني في معجم الکبیر (19/384 ح 901) ومسند الشامیین (1/451 ح 795)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِتَابِہِ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْعَلَاءِ،عَنْ أَبِي الْأَزْہَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ،قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ-الَّذِي عَلَی بَابِ حِمْصَ-فَقَالَ: أَيُّہَا النَّاسُ! إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْہِلَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا،وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ،فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَہُ فَلْيَفْعَلْہُ،قَالَ: فَقَامَ إِلَيْہِ مَالِكُ بْنُ ہُبَيْرَةَ السَّبَئِيُّ،فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ أَشَيْءٌ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: صُومُوا الشَّہْرَ وَسِرَّہُ.

ابوازہر مغیرہ بن فروہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دیر مسحل میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے جو کہ باب حمص کے پاس ہے۔انہوں نے کہا: لوگوں! ہم نے (شعبان کا) چاند فلاں فلاں دن دیکھا تھا،میں (چاند ہونے سے) پہلے روزے شروع کر رہا ہوں،جو ایسا کرنا چاہے کر لے۔پھر مالک بن ہبیرہ السبی ان کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: اے معاویہ! اس سلسلے میں آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’مہینے میں روزے رکھا کرو اور اس کے آخر میں بھی۔‘‘ (دوسرا ترجمہ: رمضان کے روزے رکھو اور اس کے اول میں بھی۔یعنی آخر شعبان میں۔)