Sunan Abi Dawood Hadith 2337 (سنن أبي داود)

[2337]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (1974)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،قَالَ: قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ،فَمَالَ إِلَی مَجْلِسِ الْعَلَاءِ،فَأَخَذَ بِيَدِہِ فَأَقَامَہُ،ثُمَّ قَالَ: اللہُمَّ إِنَّ ہَذَا يُحَدِّثُ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ, فَلَا تَصُومُوا. فَقَالَ الْعَلَاءُ: اللہُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِذَلِكَ. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ الثَّوْرِيُّ وَشِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ وَأَبُو عُمَيْسٍ وَزُہَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبو دَاود: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُحَدِّثُ بِہِ،قُلْتُ لِأَحْمَدَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّہُ كَانَ عِنْدَہُ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ،وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ ﷺ خِلَافَہُ. قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ ہَذَا عِنْدِي خِلَافُہُ،وَلَمْ يَجِئْ بِہِ غَيْرُ الْعَلَاءِ،عَنْ أَبِيہِ.

عباد بن کثیر مدینے آئے اور جناب علاء بن عبدالرحمٰن کی مجلس میں آ گئے۔پس عباد نے علاء کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کر دیا پھر کہا: اے اﷲ! یہ شخص اپنے باپ سے وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب شعبان آدھا گزر جائے تو روزہ نہ رکھو۔‘‘ پھر علاء نے کہا: یا اﷲ! میرے والد (عبدالرحمٰن) نے مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث بیان کی۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ثوری ‘ سبل بن علاء ‘ ابوعمیس اور زبیر بن محمد بھی علاء سے بیان کرتے ہیں۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں عبدالرحمٰن (بن مہدی) یہ روایت بیان نہیں کیا کرتے تھے ‘ میں نے امام احمد سے پوچھا کیوں؟ تو انہوں نے کہا: کیونکہ ان کے پاس یہ حدیث تھی کہ ’’نبی کریم ﷺ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔‘‘ اور اس روایت میں اس کے خلاف مروی ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک اس میں کوئی مخالفت نہیں ہے۔علاء کے علاوہ اسے اور کوئی روایت نہیں کرتا اور وہ بھی اپنے باپ سے روایت کرتا ہے۔

قال معاذ علي زئي: قد أنکرہ أحمد بن حنبل کما فی العلل روایۃ المروذي (273) وقال أحمد: ’’سألت ابن مہدي عنہ فلم يحدثني بہ وكان يتوفاہ‘‘ (أیضًا) وقال أحمد بن حنبل: ’’ہذا حديث منكر،يعني: حديث ‌العلاء ہذا‘‘ (مسائل أحمد روایۃ أبي داود السجستاني: 2002،الخلافیات للبیھقي: 5/ 21 ح 3488 وسندہ صحیح) وأنکرہ أبو زرعۃ الرازي کما قال البرذعي: ’’وشھدت أبا زرعۃ ینکر حدیث العلاء بن عبد الرحمن: إذا انتصف شعبان،وزعم أنہ منکر‘‘ (سؤالات البرذعي: 143) وأنکرہ جعفر بن محمد الطیالسي (مستخرج أبي عوانۃ: 3916) وقد صححہ جماعۃ منھم الترمذي وابن حبان وابن حزم وابن عبد البر وغیرھم،لکن أنکرہ الجھابذۃ کأحمد وأبي زرعۃ الرازي وغیرھما،والصواب أنہ حدیث منکر،ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب.