Sunan Abi Dawood Hadith 2339 (سنن أبي داود)
[2339]صحیح
أخرجہ أحمد (5/314 وسندہ صحیح) وقال الدارقطني (2/169 ح 2182): ’’ھذا إسناد حسن ثابت‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَخَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ الْمُقْرِئُ،قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ،فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَہِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ بِاللہِ, لَأَہَلَّا الْہِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً،فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا. زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِہِ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَی مُصَلَّاہُمْ.
ربعی بن حراش ‘ اصحاب نبی کریم ﷺ میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اﷲ کی گواہی دی (قسمیں اٹھائیں) کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں۔¤ اور خلف بن ہشام کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ نے فرمایا ’’اگلے دن صبح کو (عید پڑھنے کے لیے) عید گاہ جائیں۔‘‘