Sunan Abi Dawood Hadith 2341 (سنن أبي داود)
[2341] إسنادہ ضعیف
نسائی (5112،2116)
السند مرسل مع ضعفہ
انظر الحدیث السابق (2340)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ عِكْرِمَةَ،أَنَّہُمْ شَكُّوا فِي ہِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً،فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا،وَلَا يَصُومُوا،فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ،فَشَہِدَ أَنَّہُ رَأَی الْہِلَالَ،فَأُتِيَ بِہِ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: أَتَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَنِّي رَسُولُ اللہِ؟،قَالَ: نَعَمْ،وَشَہِدَ أَنَّہُ رَأَی الْہِلَالَ،فَأَمَرَ بِلَالًا فَنَادَی فِي النَّاسِ،أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ جَمَاعَةٌ،عَنْ سِمَاكٍ،عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک بار رمضان کے چاند میں شک ہو گیا۔پس انہوں نے ارادہ کیا کہ نہ قیام کریں اور نہ روزہ رکھیں۔تو حرہ کی طرف سے ایک اعرابی آیا۔اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ‘ آپ نے فرمایا ’’کیا تو ((لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ)) کی گواہی دیتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں اور شہادت دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔تب آپ ﷺ نے بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ رات کو قیام کریں اور (صبح کو) روزہ رکھیں۔¤ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ایک جماعت نے بواسطہ سماک ‘ عکرمہ سے مرسل روایت کیا ہے۔اور قیام کا ذکر حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔