Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 236 (سنن أبي داود)

[236] إسنادہ ضعیف

ترمذی (113)،ابن ماجہ (612)،ویأتي (3721)

وقال الترمذي: ’’وعبد اللہ ضعفہ یحیی بن سعید من قبل حفظہ‘‘

ولبعض الحدیث شواھد عند مسلم (314) وغیرہ،انظر الحدیث الآتي (الأصل: 237)

انوار الصحیفہ ص 21

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ الْعُمَرِيُّ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ عَنِ الْقَاسِمِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا؟ قَالَ: يَغْتَسِلُ،وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَی أَنَّہُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ الْبَلَلَ؟ قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْہِ،فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: الْمَرْأَةُ تَرَی ذَلِكَ،أَعَلَيْہَا غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ, إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ انسان (اپنے جسم یا کپڑوں پر) نمی محسوس کرتا ہے مگر اسے احتلام (یا خواب) یاد نہیں آتا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’غسل کرے۔‘‘ اور اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے مگر (جسم یا کپڑوں پر) کوئی نمی نہیں پاتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس پر غسل نہیں۔‘‘ تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر عورت اسی طرح دیکھے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں! عورتیں (بھی) بلاشبہ مردوں ہی کی مانند ہیں۔‘‘