Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 237 (سنن أبي داود)

[237]صحیح

صحیح مسلم (314)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ،حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ،عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيَّةَ-ہِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ-قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ! أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي النَّوْمِ مَا يَرَی الرَّجُلُ أَتَغْتَسِلُ أَمْ لَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: نَعَمْ،فَلْتَغْتَسِلْ, إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ،قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْہَا،فَقُلْتُ: أُفٍّ لَكِ, وَہَلْ تَرَی ذَلِكَ الْمَرْأَةُ؟! فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: تَرِبَتْ يَمِينُكِ يَا عَائِشَةُ وَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَہُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَی عُقيْلٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَيُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّہْرِيِّ عَنِ الزُّہْرِيِّ وَإِبْرَاہِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ وَوَافَقَ الزُّہْرِيُّ مُسَافِعًا الْحَجَبِيَّ قَالَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ وَأَمَّا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَقَالَ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ جَاءَتْ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا والدہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا۔یہ فرمائیے کہ جب عورت خواب میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’چاہیئے کہ غسل کرے جب وہ پانی (نکلنے) کا اثر محسوس کرے۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس (ام سلیم) کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا: اف! بھلا عورت بھی کوئی ایسے دیکھتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’تیری دایاں ہاتھ خاک آلود ہو (بچے میں) مشابہت کہاں سے آتی ہے؟‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ زبیدی،عقیل،یونس اور زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم،چاروں نے) زہری سے،اور ایسے ہی ابن ابی الوزیر (ابراہیم بن عمر) نے بواسطہ مالک،زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے (یعنی یہ مکالمہ سیدہ عائشہ اور ام سلیم کے مابین ہوا ہے) نیز مسافع حجبی نے (بھی) زہری کی موافقت میں بواسطہ عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی روایت کیا ہے،مگر ہشام بن عروہ بواسطہ عروہ عن زینب بنت ابی سلمہ کی سند سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی تھی۔