Sunan Abi Dawood Hadith 2374 (سنن أبي داود)
[2374] إسنادہ ضعیف
سفیان الثوري من المدلسین وعنعن ومع ذلک صححہ الحافظ فی الفتح (4/ 178) !
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،عَنْ سُفْيَانَ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی،حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ،نَہَی عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ،وَلَمْ يُحَرِّمْہُمَا, إِبْقَاءً عَلَی أَصْحَابِہِ،فَقِيلَ لَہُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَی السَّحَرِ؟! فَقَال:َ إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَی السَّحَرِ،وَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي.
جناب عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک صحابی نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ پر شفقت فرماتے ہوئے،انہیں سینگی لگوانے اور روزوں میں وصال کرنے سے منع کیا مگر آپ ﷺ نے ان دونوں کو حرام نہیں کیا۔آپ ﷺ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ تو سحر تک وصال کرتے ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں سحر تک وصال کرتا ہوں اور میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔‘‘