Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 238 (سنن أبي داود)

[238]صحیح

صحیح بخاری (250) صحیح مسلم (319)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا, أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ: يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ-ہُوَ الْفَرَقُ-مِنَ الْجَنَابَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَی ابْنُ عُيَيْنَةَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِيہِ قَدْرُ الْفَرَقِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: الْفَرَقُ سِتَّةُ عَشَرَ رِطْلًا،وَسَمِعْتُہُ يَقُولُ: صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ: خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ،قَالَ: فَمَنْ قَالَ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ؟! قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ. قَالَ: و سَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: مَنْ أَعْطَی فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ بِرِطْلِنَا ہَذَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا, فَقَدْ أَوْفَی, قِيلَ: الصَّيْحَانِيُّ ثَقِيلٌ! قَالَ: الصَّيْحَانِيُّ أَطْيَبُ؟ قَالَ: َا أَدْرِي.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک برتن ((فرق)) سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ معمر نے بواسطہ زہری اس حدیث میں روایت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے جس میں ایک ((فرق)) کے برابر پانی آتا تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن عیینہ نے بھی حدیث مالک کی مانند روایت کیا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا،وہ کہہ رہے تھے کہ ((فرق)) (ایک برتن ہے) اس میں باعتبار مقدار سولہ رطل آتے ہیں اور میں نے ان کو سنا،کہہ رہے تھے کہ ابن ابی ذئب کا صاع (باعتبار وزن) کے پانچ رطل اور تہائی رطل کے برابر ہوتا ہے۔کہا گیا کہ جو لوگ صاع کو آٹھ رطل کے برابر بتاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کا قول (صحیح اور) محفوظ نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد کو سنا،وہ کہہ رہے تھے کہ جو شخص ہمارے اس رطل کے مطابق پانچ رطل اور ایک تہائی رطل (شرعی ایک صاع) صدقہ فطر ادا کر دے،تو اس نے پورا فطرانہ ادا کر دیا۔کہا گیا: (مدینے کی) صیحانی کھجور بھاری ہوتی ہے۔کہا: صیحانی بہترین کھجور ہے؟ کہا: میں نہیں جانتا۔