Sunan Abi Dawood Hadith 2387 (سنن أبي داود)
[2387]إسنادہ حسن
وللحدیث شاھد عند البیھقي (4/231، 232) مشکوۃ المصابیح (2006)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ،أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ،عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ عَنِ الْأَغَرِّ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ؟ فَرَخَّصَ لَہُ،وَأَتَاہُ آخَرُ فَسَأَلَہُ؟ فَنَہَاہُ،فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَہُ شَيْخٌ،وَالَّذِي نَہَاہُ شَابٌّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے مسئلہ پوچھا کہ روزہ دار شخص بیوی کے ساتھ لیٹے یا نہ؟ آپ ﷺ نے اس کو اجازت دی۔پھر دوسرا آیا اور اس نے بھی آپ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا۔آپ ﷺ نے اس کو منع فرما دیا۔دراصل آپ ﷺ نے جس کو اجازت دی،وہ بوڑھا تھا اور جس کو منع فرمایا،وہ جوان تھا۔