Sunan Abi Dawood Hadith 2422 (سنن أبي داود)
[2422]صحیح
صحیح بخاری (1986)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،عَنْ قَتَادَةَ ح،وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،حَدَّثَنَا قَتَادَةُ،عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ،عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْہَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَہِيَ صَائِمَةٌ،فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ؟،قَالَتْ: لَا قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟،قَالَتْ: لَا،قَالَ: فَأَفْطِرِي.
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ایک بار) نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے جبکہ یہ روزہ سے تھیں۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’کیا تم نے کل (جمرات کو) روزہ رکھا تھا؟ کہنے لگیں کہ نہیں۔فرمایا ’’کیا کل (ہفتے) کو روزہ رکھو گی؟‘‘ کہنے لگیں کہ نہیں۔فرمایا ’’تو افطار کر دو۔‘‘