Sunan Abi Dawood Hadith 2421 (سنن أبي داود)
[2421]إسنادہ حسن
أخرجہ الترمذي (744 وسندہ صحیح) وابن ماجہ (1726 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2063)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ح،وحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَہْلِ جَبَلَةَ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ جَمِيعًا،عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ،عَنْ أُخْتِہِ وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ, إِلَّا فِي مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ،وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ،أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ, فَلْيَمْضَغْہُ. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ.
جناب عبداللہ بن بسر سلمی کی ہمشیرہ صماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ہفتے کے دن کا روزہ نہ رکھو ‘ سوائے ان ایام کے جن میں تم پر یہ فرض ہوں۔ہفتے کے دن اگر تمہیں انگور کی شاخ کا چھلکا میسر آئے یا کسی درخت کی لکڑی تو اسے ہی چبا لو۔‘‘ (اپنے آپ کو بے روزہ بنا لو۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث منسوخ ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن بسر ‘ حمصی ہیں اور یہ حدیث منسوخ ہے۔اس کو سیدہ جویریہ کی حدیث نے (جو آگے آ رہی ہے) منسوخ کر دیا ہے۔