Sunan Abi Dawood Hadith 2427 (سنن أبي داود)

[2427]صحیح

صحیح بخاری (1976) صحیح مسلم (1159)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ, فَقَالَ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَقُولُ: لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّہَارَ؟!،قَالَ: أَحْسَبُہُ قَالَ: نَعَمْ،يَا رَسُولَ اللہِ! قَدْ قُلْتُ ذَاكَ،قَال:َ قُمْ،وَنَمْ،وَصُمْ،وَأَفْطِرْ،وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ،وَذَاكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّہْرِ،قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ! قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا،وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ،قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ! قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا،وَأَفْطِرْ يَوْمًا،وَہُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ،وَہُوَ صِيَامُ دَاوُدَ،قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اور فرمایا ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ تم کہتے ہو میں رات پھر قیام اور دن کو روزہ ہی رکھا کروں گا؟‘‘ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’(رات کو) قیام کرو اور آرام بھی کرو،روزے رکھو اور افطار بھی کرو (بلکہ) ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو،یہ صیام الدھر کی مانند ہو گے۔‘‘ (گویا زمانہ بھر روزے رکھے) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ایک دن روزہ رکھا کر دو دن افطار کر لیا کرو۔‘‘ میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔فرمایا ’’تو ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کر لیا کرو،یہ روزے رکھنے کی معتدل صورت ہے اور یہ صیام داود ہے۔‘‘ میں نے کہا:،میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس سے بڑھ کر کچھ افضل نہیں۔‘‘