Sunan Abi Dawood Hadith 2441 (سنن أبي داود)

[2441]صحیح

صحیح بخاری (1988) صحیح مسلم (1123)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ أَبِي النَّضْرِ،عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ،عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ،أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَہَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللہِ ﷺ! فَقَالَ بَعْضُہُمْ: ہُوَ صَائِمٌ،وَقَالَ بَعْضُہُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ،فَأَرْسَلَتْ إِلَيْہِ بِقَدَحِ لَبَنٍ،وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی بَعِيرِہِ بِعَرَفَةَ،فَشَرِبَ.

سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عرفہ کے روز ان کے ہاں کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا،کچھ نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور کچھ نے کہا آپ روزے سے نہیں ہیں۔چنانچہ میں نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیج دیا،جب کہ آپ عرفہ کے میدان میں اپنے اونٹ پر سوار وقوف فرمائے ہوئے تھے،تو آپ نے وہ نوش فرما لیا۔(اور اس طرح معلوم ہو گیا کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا ہے)۔