Sunan Abi Dawood Hadith 2442 (سنن أبي داود)

[2442]صحیح

صحیح بخاری (2002) صحیح مسلم (1125)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُہُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصُومُہُ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمَدِينَةَ, صَامَہُ وَأَمَرَ بِصِيَامِہِ،فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ, كَانَ ہُوَ الْفَرِيضَةُ،وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ،فَمَنْ شَاءَ صَامَہُ،وَمَنْ شَاءَ تَرَكَہُ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عاشورا (دسویں محرم) کا دن ایسا تھا کہ اہل قریش اسلام سے پہلے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا۔پس جب رمضان فرض ہوا تو وہی فریضہ ہو گیا اور عاشورا چھوڑ دیا گیا،جو چاہتا رکھ لیتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔