Sunan Abi Dawood Hadith 2488 (سنن أبي داود)
[2488] إسنادہ ضعیف
فرج بن فضالۃ ضعیف
وعبدالخبیر بن ثابت مجہول الحال (تقریب: 3780) ضعفہ أبو حاتم وغیرہ،وضعفہ راجح
وشیخہ قیس بن ثابت:مجہول (انظر التحریر:5563)
فالسند مظلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ،حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ،عَنْ عَبْدِ الْخَبِيرِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ ابْنِ شَمَّاسٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ-يُقَالُ لَہَا: أُمُّ خَلَّادٍ،وَہِيَ مُنْتَقِبَةٌ-،تَسْأَلُ عَنِ ابْنِہَا وَہُوَ مَقْتُولٌ؟ فَقَالَ لَہَا بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ: جِئْتِ تَسْأَلِينَ عَنِ ابْنِكِ وَأَنْتِ مُنْتَقِبَةٌ؟ فَقَالَتْ: إِنْ أُرْزَأَ ابْنِي فَلَنْ أُرْزَأَ حَيَائِي! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ابْنُكِ لَہُ أَجْرُ شَہِيدَيْنِ،قَالَتْ: وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ: لِأَنَّہُ قَتَلَہُ أَہْلُ الْكِتَابِ.
جناب عبد الخبیر بن ثابت بن قیس بن شماس اپنے والد سے،وہ دادا سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی جس کا نام ام خلاد تھا،اس نے نقاب ڈالا ہوا تھا،اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کر رہی تھی جبکہ وہ (جہاد میں) مارا گیا تھا۔اصحاب نبی کریم ﷺ میں سے کسی نے اس سے کہا: تم اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کرنے آئی ہو اور نقاب ڈال رکھا ہے۔(ایسی پریشانی میں پردے کا یہ اہتمام؟) اس نے کہا: اگر میرا بیٹا کھو گیا ہے تو میں نے اپنی حیاء تو نہیں کھوئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تیرے بیٹے کو دو شہیدوں کا ثواب ہے۔‘‘ اس نے پوچھا: یہ کیوں اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیونکہ اس کو اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔‘‘