Sunan Abi Dawood Hadith 2490 (سنن أبي داود)

[2490]صحیح

صحیح بخاری (2799، 2800) صحیح مسلم (1912)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أُخْتُ أُمِّ سُلَيْمٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ عِنْدَہُمْ،فَاسْتَيْقَظَ وَہُوَ يَضْحَكُ،قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ قَوْمًا مِمَّنْ يَرْكَبُ ظَہْرَ ہَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَی الْأَسِرَّةِ!. قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ادْعُ اللہَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْہُمْ؟ قَالَ: فَإِنَّكِ مِنْہُمْ،قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَہُوَ يَضْحَكُ،قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا أَضْحَكَكَ؟ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِہِ،قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ادْعُ اللہَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْہُمْ،قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ. قَالَ: فَتَزَوَّجَہَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ،فَغَزَا فِي الْبَحْرِ،فَحَمَلَہَا مَعَہُ،فَلَمَّا رَجَعَ،قُرِّبَتْ لَہَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَہَا،فَصَرَعَتْہَا،فَانْدَقَّتْ عُنُقُہَا،فَمَاتَتْ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (میری خالہ) ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور یہ (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا کی ہمشیرہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک بار) ان کے ہاں قیلولہ کیا۔آپ ﷺ جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔کہتی ہیں،میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں نے دیکھا کہ (میری امت میں سے) ایک قوم کے لوگ (بڑی شان سے) سمندر میں سفر کر رہے ہیں جیسے کہ بادشاہ تختوں پر ہوں۔‘‘ کہتی ہیں،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں کر دے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم بھی ان میں سے ہو۔‘‘ آپ ﷺ پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے پہلے والی بات بتائی۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم پہلے لوگوں میں ہو گی۔‘‘ انس بیان کرتے ہیں کہ بعد میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور جہاد کے لیے سمندر کے سفر پر گئے اور ان (ام حرام) کو بھی ساتھ لے گئے اور جب واپس لوٹے تو ایک خچر ان کے لیے لایا گیا کہ اس پر سوار ہوں تو اس نے ان کو گرا دیا،اس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ وفات پا گئیں۔