Sunan Abi Dawood Hadith 2497 (سنن أبي داود)
[2497]صحیح
صحیح مسلم (1906)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يَزِيدَ،حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَہِيعَةَ،قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو ہَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الحُبُلِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو،يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللہِ فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً،إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِہِمْ مِنَ الْآخِرَةِ،وَيَبْقَی لَہُمُ الثُّلُثُ،فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَہُمْ أَجْرُہُمْ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو مجاہدین اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں اور غنیمت حاصل کر لیتے ہیں،وہ اپنے آخرت کے اجر میں سے دو تہائی جلد ہی (اس دنیا ہی میں) پا لیتے ہیں اور ایک تہائی ان کے لیے باقی رہ جاتا ہے اور اگر انہیں کوئی غنیمت نہ ملے تو ان کا کامل اجر (قیامت تک کے لیے) محفوظ ہو جاتا ہے۔‘‘