Sunan Abi Dawood Hadith 2508 (سنن أبي داود)

[2508]صحیح

رواہ حمید عن أنس بن مالک، انظر سنن ابن ماجہ (2764 وسندہ صحیح) وانظر صحیح البخاري (2838، 2839) وغیرہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ حُمَيْدٍ،عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَال:َ لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا،مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا،وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ،وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَہُمْ مَعَكُمْ فِيہِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَہُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ فَقَالَ: حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ تم لوگ مدینے میں ایسے لوگوں کو چھوڑ آئے ہو کہ جو سفر بھی تم کرتے ہو یا کوئی خرچ کرتے ہو یا کوئی وادی طے کرتے ہو تو وہ (اجر و ثواب میں) تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ ہمارے ساتھ کس طرح ہوتے ہیں حالانکہ وہ مدینے میں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ان کو عذر اور مجبوری نے روکے رکھا ہے۔‘‘