Sunan Abi Dawood Hadith 2520 (سنن أبي داود)
[2520]حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع وللحدیث شواھد عند البیھقي في أثبات عذاب القبر (212 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (3853)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللہُ أَرْوَاحَہُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ،تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّةِ،تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِہَا،وَتَأْوِي إِلَی قَنَادِيلَ مِنْ ذَہَبٍ،مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ،فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِہِمْ،وَمَشْرَبِہِمْ،وَمَقِيلِہِمْ،قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءٌ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِئَلَّا يَزْہَدُوا فِي الْجِہَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ!؟ فَقَالَ اللہُ سُبْحَانَہُ: أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْكُمْ،قَالَ: فَأَنْزَلَ اللہُ:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللہِ...[آل عمران: 169]،إِلَی آخِرِ الْآيَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب تمہارے بھائی احد میں شہید کر دیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں میں کر دیا جو جنت کی نہروں پر آتے ہیں،وہاں کے پھل کھاتے ہیں اور پھر سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتے ہیں جو عرش کے سائے میں لٹک رہی ہیں۔جب انہوں نے وہاں کے کھانے پینے اور آرام و راحت کے مزے دیکھے تو کہا: کون ہے جو ہمارا یہ پیغام ہمارے بھائیوں تک پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں،ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ جہاد سے بے رغبت نہ ہو جائیں اور لڑائی میں بزدلی نہ دکھائیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ((ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ أمواتا)) ’’وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کیجئیے کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘