Sunan Abi Dawood Hadith 2519 (سنن أبي داود)
[2519]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3847)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْأَنْصَارِيُّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِيٍّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَافِعٍ،عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو،قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو،يَا رَسُولَ اللہِ! أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِہَادِ وَالْغَزْوِ؟! فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو! إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا, بَعَثَكَ اللہُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا،وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا, بَعَثَكَ اللہ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا،يَا عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرٍو! عَلَی أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ, بَعَثَكَ اللہُ عَلَی تِلْكَ الْحَالِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (میں نے کہا) اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے متعلق ارشاد فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ اور اجر کی نیت سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کرنے والوں اور اجر کے طلب گاروں میں اٹھائے گا اور اگر تم دکھلاوے اور مال جمع کرنے کی غرض سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ریا کار اور مال جمع کرنے والوں میں اٹھائے گا،اے عبداللہ بن عمرو! جس حال (اور نیت) میں بھی تم نے لڑائی کی (جہاد کیا) یا تمہیں قتل کر دیا گیا تو اللہ تمہیں اسی حالت پر اٹھائے گا۔‘‘