Sunan Abi Dawood Hadith 2524 (سنن أبي داود)
[2524]حسن
أخرجہ النسائي (1987 وسندہ حسن) عبد اللہ بن ربیعۃ وثقہ ابن حبان وھو مختلف في صحبتہ فمثلہ: حدیثہ حسن مشکوۃ المصابیح (5286)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رُبَيِّعَةَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ،قَال:َ آخَی رَسُولُ اللہِ ﷺ بَيْنَ رَجُلَيْنِ،فَقُتِلَ أَحَدُہُمَا،وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَہُ بِجُمُعَةٍ،أَوْ نَحْوِہَا،فَصَلَّيْنَا عَلَيْہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا قُلْتُمْ؟ فَقُلْنَا: دَعَوْنَا لَہُ،وَقُلْنَا: اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ،وَأَلْحِقْہُ بِصَاحِبِہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: فَأَيْنَ صَلَاتُہُ بَعْدَ صَلَاتِہِ،وَصَوْمُہُ بَعْدَ صَوْمِہِ،-شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِہِ-وَعَمَلُہُ،بَعْدَ عَمَلِہِ؟! إِنَّ بَيْنَہُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
سیدنا عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا تھا۔چنانچہ ایک (جہاد میں) قتل ہو گیا اور اس کا دوسرا ساتھی ایک ہفتہ بعد یا اس کے قریب فوت ہوا،ہم نے اس کا جنازہ پڑھا۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ’’تم نے (اس کے حق میں) کیا کہا ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ہم نے اس کے لیے دعا کی اور کہا: اے اللہ! اس کو اپنے ساتھی کے ساتھ ملا دے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو اس کی وہ نمازیں جو اس کے بعد پڑھتا رہا،وہ روزے جو اس کے بعد رکھتا رہا اور وہ عمل جو اس کے بعد کرتا رہا،کیا ہوئے؟ ان کے درمیان تو اتنا فاصلہ ہے جیسے کہ زمین و آسمان کے درمیان۔‘‘ شعبہ کو ((فی صومہ)) کے الفاظ میں شک ہوا ہے۔