Sunan Abi Dawood Hadith 2544 (سنن أبي داود)
[2544] إسنادہ ضعیف
انظر الحدیث السابق (2543)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُہَاجِرٍ،حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ،عَنْ أَبِي وَہْبٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ،أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ..،فَذَكَرَ نَحْوَہُ. قَالَ مُحَمَّدٌ-يَعْنِي: ابْنَ مُہَاجِرٍ-وَسَأَلْتُہُ-لِمَ فُضِّلَ الْأَشْقَرُ قَالَ لِأَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ سَرِيَّةً،فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ أَشْقَرَ
سیدنا ابو وہب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’گھوڑا ایسا منتخب کرو جو اشقر پانچ کلیان ہو (سرخ رنگ) یا کمیت سفید پیشانی۔‘‘ اور مذکورہ حدیث کی مانند ذکر کیا۔محمد بن مہاجر کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیا کہ اشقر کو فضیلت کیوں ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہم بھیجی تو جو شخص سب سے پہلے فتح کی خوشخبری لے کر آیا وہ اشقر گھوڑے پر سوار تھا۔