Sunan Abi Dawood Hadith 2602 (سنن أبي داود)

[2602]صحیح

أبو إسحاق السبیعي صرح بالسماع عند البیھقي (5/252) مشکوۃ المصابیح (2434)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِيُّ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ،قَالَ: شَہِدْتُ عَلِيًّا رَضِي اللہُ عَنْہُ-وَأُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَہَا-،فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِي الرِّكَابِ،قَالَ: بِسْمِ اللہِ،فَلَمَّا اسْتَوَی عَلَی ظَہْرِہَا،قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ،ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا كُنَّا لَہُ مُقْرِنِينَ،وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ،ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-،ثُمَّ قَالَ: اللہُ أَكْبَرُ-ثَلَاثَ مَرَّاتٍ-،ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي, فَإِنَّہُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،ثُمَّ ضَحِكَ،فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ،ثُمَّ ضَحِكَ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِہِ إِذَا قَالَ: اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي،يَعْلَمُ أَنَّہُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي.

جناب علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ سوار ہونے کے لیے آپ کے سامنے سواری لائی گئی۔آپ نے جب اپنا پاؤں رکاب میں ڈال لیا تو کہا: ((بسم اللہ)) پھر جب ٹھیک طرح سے اس پر بیٹھ گئے تو کہا: ((الحمد اللہ)) پھر کہا: ((سبحان الذی سخر لنا ہذا وما کنا لہ مقرنین،وإنا إلی ربنا لمنقلبون)) ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے تابع کیا اور ہم از خود اس کو اپنا تابع نہ بنا سکتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔‘‘ پھر کہا: ((الحمد اللہ)) تین بار۔پھر کہا: ((اللہ اکبر)) تین بار۔پھر کہا: ((سبحانک إنی ظلمت نفسی فاغفر لی فإنہ لا یغفر الذنوب إلا أنت)) ’’اے اﷲ! تو پاک ہے میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے تو مجھے معاف فرما دے ‘ بلاشبہ تیرے سوا اور کوئی نہیں جو گناہوں کو بخش سکے۔‘‘ پھر آپ ہنسے۔آپ سے کہا گیا: امیر المؤمنین! آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ ﷺ نے ایسے ہی کیا تھا جیسے کہ میں نے کیا ہے اور آپ ﷺ ہنسے (بھی) تھے ‘ تو میں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا: اے اﷲ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ تیرے رب کو اپنے بندے پر تعجب آتا ہے جب وہ کہتا ہے (الٰہی!) میرے گناہ بخش دے ‘ بندہ جانتا ہے کہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا۔‘‘