Sunan Abi Dawood Hadith 2603 (سنن أبي داود)

[2603]حسن

صححہ ابن خزیمۃ (2572 وسندہ حسن) الزبیر بن الولید صدوق حسن الحدیث وثقہ ابن خزیمۃ والحاکم وغیرھما مشکوۃ المصابیح (2439)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ،حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ،حَدَّثَنِي صَفْوَانُ،حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْوَلِيدِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ عُمَرٍ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ،قَالَ: يَا أَرْضُ! رَبِّي وَرَبُّكِ اللہُ،أَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّكِ،وَشَرِّ مَا فِيكِ،وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ،وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ،وَأَعُوذُ بِاللہِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ،وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ،وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ،وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے اور رات آ جاتی تو کہتے ((یا أرض ربی وربک اللہ أعوذ باللہ من شرک وشر ما فیک وشر ما خلق فیک ومن شر ما یدب علیک،وأعوذ باللہ من أسد وأسود ومن الحیۃ والعقرب ومن ساکن البلد ومن والد وما ولد)) ’’اے زمین! میرا اور تیرا رب اﷲ ہی ہے۔میں اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے ‘ اور اس شر سے جو تیرے اندر ہے اور جو تیرے اندر پیدا کیا گیا ہے اور ہر اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی پھرتی ہے۔میں اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں شیر سے ‘ کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور اس علاقے کے رہنے والوں کے شر سے ‘ اور جننے والے کے شر سے اور جس کو وہ جنے اس کے شر سے۔‘‘