Sunan Abi Dawood Hadith 2669 (سنن أبي داود)
[2669]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (3955)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ جَدِّہِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ،قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي غَزْوَةٍ،فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَی شَيْءٍ،فَبَعَثَ رَجُلًا،فَقَالَ: انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ ہَؤُلَاءِ؟!،فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَی امْرَأَةٍ قَتِيلٍ! فَقَالَ: مَا كَانَتْ ہَذِہِ لِتُقَاتِلَ،قَالَ: وَعَلَی الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ،فَبَعَثَ رَجُلًا, فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ: لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا
سیدنا رباح بن ربیع بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے،آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔آپ ﷺ نے ایک آدمی کو بھیجا کہ دیکھ کر آئے وہ کیوں جمع ہیں؟ وہ ہو کر آیا اور بتایا: ایک عورت قتل کی گئی ہے اور وہ اس پر جمع ہیں۔پس آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو لڑنے والی نہ تھی بیان کیا کہ اس فوج کے مقدمہ پر خالد بن ولید تھے۔آپ ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا کہ خالد سے کہہ دو ’’کسی عورت یا کسی مزدور کو ہرگز قتل نہ کریں۔‘‘