Sunan Abi Dawood Hadith 2671 (سنن أبي داود)
[2671]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ھشام فی السیرۃ (2/242 بتحقیقي)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِہِمْ-تَعْنِي: بَنِي قُرَيْظَةَ-إِلَّا امْرَأَةٌ،إِنَّہَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ،تَضْحَكُ ظَہْرًا وَبَطْنًا،وَرَسُولُ اللہِ ﷺ يَقْتُلُ رِجَالَہُمْ بِالسُّيُوفِ،إِذْ ہَتَفَ ہَاتِفٌ بِاسْمِہَا: أَيْنَ فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: أَنَا،قُلْتُ: وَمَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: حَدَثٌ أَحْدَثْتُہُ،قَالَتْ: فَانْطَلَقَ بِہَا،فَضُرِبَتْ عُنُقُہَا،فَمَا أَنْسَی عَجَبًا مِنْہَا أَنَّہَا تَضْحَكُ ظَہْرًا وَبَطْنًا،وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّہَا تُقْتَلُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (یہودیوں کے قبیلہ) بنی قریظہ کی عورتوں میں سے صرف ایک عورت کو قتل کیا گیا تھا،وہ میرے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی اور اتنا ہنستی تھی کہ اس کے پیٹ اور کمر میں بل پڑ جاتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ بازار میں اس کی قوم کے لوگوں کو قتل کیے جا رہے تھے۔اچانک ایک پکارنے والے نے اس عورت کا نام پکارا کہ فلانی کہاں ہے؟ وہ کہنے لگی: میں ہوں۔میں نے پوچھا تیرا کیا قصہ ہے؟ کہنے لگی میں نے ایک سازشی کام کیا ہے۔چنانچہ وہ پکارنے والا اسے لے گیا اور پھر اس کی گردن مار دی گئی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اسے نہیں بھولی ہوں اور اس پر تعجب ہوتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل ہونے والی ہے مگر وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔