Sunan Abi Dawood Hadith 2673 (سنن أبي داود)
[2673]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ،عَنْ أَبِي الزِّنَادِ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ،عَنْ أَبِيہِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَّرَہُ عَلَی سَرِيَّةٍ،قَالَ: فَخَرَجْتُ فِيہَا،وَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ،فَوَلَّيْتُ،فَنَادَانِي،فَرَجَعْتُ إِلَيْہِ،فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا فَاقْتُلُوہُ،وَلَا تُحْرِقُوہُ, فَإِنَّہُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ
محمد بن حمزہ اسلمی اپنے والد (حمزہ بن عمر اسلمی) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک دستے کا امیر بنایا تھا۔کہتے ہیں کہ جب میں روانہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تمہیں فلاں شخص مل جائے تو اس کو آگ سے جلا دینا۔‘‘ میں نے پیٹھ پھیری تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا میں آپ ﷺ کے پاس واپس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تم فلاں کو پاؤ تو اسے قتل کر دینا،جلانا نہیں،بلاشبہ آگ سے عذاب،آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔“