Sunan Abi Dawood Hadith 2679 (سنن أبي داود)
[2679]صحیح
صحیح بخاری (469) صحیح مسلم (1764)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ وَقُتَيْبَةُ قَالَ قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَيْرَةَ،يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ،فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ،يُقَالُ لَہُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ،سَيِّدُ أَہْلِ الْيَمَامَةِ،فَرَبَطُوہُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ،فَخَرَجَ إِلَيْہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟،قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ،إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ،وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَی شَاكِرٍ،وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ, فَسَلْ تُعْطَ مِنْہُ مَا شِئْتَ فَتَرَكَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ،حَتَّی إِذَا كَانَ الْغَدُ،ثُمَّ قَالَ لَہُ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟،فَأَعَادَ مِثْلَ ہَذَا الْكَلَامِ فَتَرَكَہُ،حَتَّی كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَذَكَرَ مِثْلَ ہَذَا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ فَانْطَلَقَ إِلَی نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ،فَاغْتَسَلَ فِيہِ،ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ،فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ عِيسَی،أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَقَالَ: ذَا ذِمٍّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک جہادی دستہ روانہ فرمایا۔وہ قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور وہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔چنانچہ انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟ (یا تیرا کیا خیال ہے؟) اس نے کہا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔اگر تم نے قتل کیا تو ایک خون والے کو قتل کرو گے۔اور اگر احسان کرو گے تو ایک شکر گزار پر احسان کرو گے۔اگر آپ کو مال کی ضرورت ہو تو کہیے جتنا چاہتے ہو ملے گا۔رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی حال پر رہنے دیا۔اگلا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پھر پوچھا: ثمامہ! تیرے پاس کیا ہے؟ (یا تیرا کیا خیال ہے؟) تو اس نے پہلے جیسی بات دہرائی۔پس رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی حال پر رہنے دیا۔حتیٰ کہ اگلا دن ہوا تو بھی یہ مکالمہ ہوا۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ثمامہ کو آزاد کر دو۔‘‘ چنانچہ وہ چلا گیا اور مسجد کے قریب نخلستان میں پہنچا ‘ وہاں جا کر غسل کیا اور پھر مسجد میں واپس آ گیا اور کہنے لگا ((أشہد أن لا إلہ إلا اللہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ)) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘ اور دونوں نے پوری حدیث بیان کی۔عیسی بن حماد نے کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی تو اس میں ((إن تقتل تقتل ذا دم)) کی بجائے ((ذا ذم)) کے لفظ بیان کیے۔(اگر قتل کیا تو) ایک صاحب ذمہ اور احترام والے کو قتل کرو گے ‘ (مفہوم دونوں کا یہ ہے کہ میری قوم بدلہ لے گی)۔